فهرس الكتاب

الصفحة 77 من 5761

کتاب: امور فطرت کا بیان

برتن سے(پانی لے لے کر)وضو کرنا

77 أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَجِدُوا مَاءً فَأُتِيَ بِتَوْرٍ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فَلَقَدْ رَأَيْتُ الْمَاءَ يَتَفَجَّرُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ وَيَقُولُ حَيَّ عَلَى الطَّهُورِ وَالْبَرَكَةِ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ الْأَعْمَشُ فَحَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ قُلْتُ لِجَابِرٍ كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ قَالَ أَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ لوگوں کو پانی نہ ملا تو آپ کے پاس پانی کا ایک تھال لایا گیا، چنانچہ آپ نے اپنا ہاتھ اس میں رکھا۔ اللہ کی قسم! میں نے آپ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی پھوٹتا دیکھا۔ آپ فرماتے تھے: ''آئو اس پاک پانی پر اور اللہ عزوجل کی برکت کی طرف۔''

اعمش کہتے ہیں: سالم بن ابوجعد نے مجھے بتایا کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تم اس دن کتنے تھے؟ انھوں نے فرمایا: پندرہ سو۔

اس میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک معجزے کا ذکر ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت