816 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبَانُ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَاصُّوا صُفُوفَكُمْ وَقَارِبُوا بَيْنَهَا وَحَاذُوا بِالْأَعْنَاقِ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرَى الشَّيَاطِينَ تَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصَّفِّ كَأَنَّهَا الْحَذَفُ
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو ملاؤ (یعنی مل کر کھڑے ہو اور انھیں قریب قریب بناؤ یعنی ان میں فاصلہ کم رکھو اور گردنیں ایک سیدھ میں رکھو۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! میں شیاطین کو دیکھتا ہوں کہ وہ صفوں کے شگاف میں اس طرح داخل ہوتے ہیں جیسے کہ وہ بھیڑ بکریوں کے بچے ہیں۔
(۱) دوران نماز صف میں ایک دوسرے سے مل کر کھڑے ہونا چاہیے مثلًا: پاؤں کے ساتھ پاؤں کندھے کے ساتھ کندھا اور ٹخنے کے ساتھ ٹخنہ وغیرہ۔ (۲) اسی طرح دو صفوں کا درمیانی فاصلہ صرف اتنا ہوکہ آسانی سے سجدہ کیا جا سکے مثلا: تین ہاتھ۔ صفیں قریب ہوں گی تو امام کی آواز بھی سنائی دے گی۔ نمازیوں کی گنجائش بڑھ جائے گی۔ (۳) گردنیں ایک سیدھ میں رکھنے کا مطلب ہے صفیں سیدھی کرنا۔ (۴) دو آدمیوں کے درمیان خالی جگہ نہ ہو ورنہ شیطان ان کے درمیان داخل ہوگا یعنی ان میں اختلافات اور فاصلہ پیدا کرے گا۔ ظاہر کا اثر باطن پر بھی ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔