855 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُنَيْنٍ فَأَصَابَنَا مَطَرٌ فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ
حضرت ابوملیح اپنے والد سے بیان کرتے ہیں، انھوں نے فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین میں تھے کہ ہم پر بارش برسنے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے اعلان کیا کہ اپنے اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔
یہ اعلان اذان ہی میں کیا گیا ہے۔ حی علی الفلاح کے بعد یا حی علی الصلاۃ، حی علی الفلاح کی جگہ یا اذان کے اختتام پر۔ اب بھی اگر بارش برس رہی ہو یا بہت زیادہ کیچڑ ہو یا یخ ٹھنڈی ہوا چل رہی ہو اور مسجد میں پہننا ممکن نہ ہو تو مؤذن یہ اعلان کرسکتا ہے۔ واللہ اعلم۔
اس مسئلے کی مزید وضاحت کے لیےکتاب الاذان کا ابتدائیہ دیکھیے۔