فهرس الكتاب

الصفحة 894 من 5761

کتاب: نماز کے ابتدائی احکام و مسائل

باب: نماز میں دونوں پائوں جوڑ کر کھڑا ہونا

894 أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي مَيْسَرَةُ بْنُ حَبِيبٍ قَالَ سَمِعْتُ الْمِنْهَالَ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي قَدْ صَفَّ بَيْنَ قَدَمَيْهِ فَقَالَ أَخْطَأَ السُّنَّةَ وَلَوْ رَاوَحَ بَيْنَهُمَا كَانَ أَعْجَبَ إِلَيَّ

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو نماز کی حالت میں دیکھا تو فرمایا: ''یہ شخص سنت نبوی سے خطا کر گیا۔ اگر یہ پاؤں کھلے رکھ کر راحت حاصل کرتا تو مجھے زیادہ اچھا لگتا۔

(۱) مذکورہ بالا دونوں روایات انقطاع کی وجہ سے سندًا ضعیف ہیں جیسا کہ محقق کتاب نے بھی صراحت کی ہے، اس لیے امام نسائی رحمہ اللہ کا ''السنن الکبریٰ، حدیث:۹۶۹'' میں اسے جید کہنا محل نظر ہے۔ (۲) دونوں پاؤں جوڑ کر رکھنا جہاں تکلیف کا موجب ہے کہ انسان زیادہ دیر کھڑا نہیں ہوسکتا وہاں سنت صحیحہ کی مخالفت بھی ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ تھی کہ اپنے دونوں پاؤں کے درمیان مناسب فاصلہ رکھتے تھے، صف بندی میں تو ملنے کےلیے لازمًا پاؤں کچھ نہ کچھ کھولنے پڑیں گے، تاہم اپنی جسامت سے زیادہ نہ کھولے۔ (۳) سنن ابوداود کی جس روایت میں [صنف القدمین من السنۃ] ''پاؤں کو ملانا سنت ہے۔'' (سنن ابی داود، الصلاۃ، حدیث:۷۵۴) کا ذکر ہے تو اس کا مطلب پاؤں کو برابر رکھنا اور انھیں آگے پیچھے نہ رکھنا مراد ہے جیسا کہ تخریج میں صراحت کی گئی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت