فهرس الكتاب

الصفحة 919 من 5761

کتاب: نماز کے ابتدائی احکام و مسائل

باب: امام کے پیچھے اس نماز میں قراءت نہ کرنا جس میں امام بلند آواز سے نہ پڑھے

919 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةَ الظُّهْرِ أَوْ الْعَصْرِ وَرَجُلٌ يَقْرَأُ خَلْفَهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ أَيُّكُمْ قَرَأَ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَنَا وَلَمْ أُرِدْ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ قَدْ خَالَجَنِيهَا

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی۔ ایک آدمی آپ کے پیچھے قراءت کرنے لگا۔ جب آپ (نماز سے) فارغ ہوئے تو فرمایا: ''تم میں سے کس نے سورۂ (سبح اسم ربک الاعلیٰ) پڑھی ہے؟'' ایک (اسی) آدمی نے کہا: میں نے۔ اور میں نے اس سے نیکی ہی کا قصد کیا ہے۔ توآپ نے فرمایا: ''تحقیق مجھے پتہ چل گیا تھا کہ تم میں سے کسی نے مجھے تشویش میں ڈالا ہے۔''

کوئی بھی ایسا کام جو ظاہرًا بڑا خوبصورت اور نیکی معلوم ہو لیکن وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے خلاف ہو یا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر اس پر ثبت نہ ہو، وہ عنداللہ مقبول نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت