فهرس الكتاب

الصفحة 973 من 5761

کتاب: نماز کے ابتدائی احکام و مسائل

باب: ظہر کی نماز میں قراءت

973 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُجَاعٍ الْمَرُّوذِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ النَّضْرِ قَالَ كُنَّا بِالطَّفِّ عِنْدَ أَنَسٍ فَصَلَّى بِهِمْ الظُّهْرَ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ إِنِّي صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَقَرَأَ لَنَا بِهَاتَيْنِ السُّورَتَيْنِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ

ابوبکر بن نضر کہتے ہیں کہ ہم حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس مقام طف (کربلا) میں تھے۔ آپ نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی۔ جب فارغ ہوئے تو فرمایا: تحقیق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ظہر کی نماز پڑھی۔ آپ نے دو رکعتوں میں یہ دو سورتیں (سبح اسم ربک الاعلی) اور (ھل اتاک حدیث الغاشیۃ) پڑھیں۔

مذکورہ دونوں روایات سندًا ضعیف ہیں، تاہم امام سری نمازوں میں بھی کوئی آیت یا کچھ الفاظ بلند آواز سے پڑھ سکتا ہے تاکہ مقتدی قراءت کا اندازہ کرلیں کہ رکوع میں کتنی دیر باقی ہے اور وہ اپنی قراءت وقت پر ختم کرلیں جیسا کہ دوسرے دلائل سے اس کی تائید ہوتی ہے، البتہ یہ بلند آواز جہری نمازوں کی قراءت سے کم اور مختلف ہونی چاہیے تاکہ امتیاز قائم رہے۔ ظاہر ہے یہ جہر آپ قصدًا کر دیا کرتے تھے۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ اتفاقًا آواز بلند ہو جاتی ہو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت