فهرس الكتاب

الصفحة 1018 من 5761

کتاب: نماز کے ابتدائی احکام و مسائل

باب: قرآن کو خوب صورت اور مزین آواز سے پڑھنا

1018 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ الْمَكِّيُّ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ حَسَنِ الصَّوْتِ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ يَجْهَرُ بِهِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ''اللہ تعالیٰ نے کبھی کسی آواز کی طرف اتنی توجہ نہیں دی (غور سے نہیں سنا) جس قدر خوب صورت آواز والے نبی کی طرف توجہ دی جو بلند (اور پرسوز) آواز سے قرآن پڑھتا ہے۔''

(۱) ''خوب صورت آواز والے نبی'' سے مراد بعض کے نزدیک خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد انبیاء کی جماعت ہے۔ جنھوں نے اس س مراد صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیے ہیں، انھیں وہم ہوا ہے۔ (فتح الباری: ۸۷/۹، تحت حدیث: ۵۰۲۳) (۲) اس حدیث مبارکہ سے اللہ کی صفت سماع ثابت ہوتی ہے جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت