فهرس الكتاب

الصفحة 1019 من 5761

کتاب: نماز کے ابتدائی احکام و مسائل

باب: قرآن کو خوب صورت اور مزین آواز سے پڑھنا

1019 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَذِنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِشَيْءٍ يَعْنِي أَذَنَهُ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کی طرف اتنی توجہ نہیں دی جس قدر اس نبی کی طرف توجہ فرماتا ہے جو پرسوز آواز سے قرآن پڑھتا ہے۔''

بعض لوگ جنھیں اللہ تعالیٰ کی فکر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ کر ہے ایسی احادیث سن کر بڑے پیچاں و غلطاں ہو جاتے ہیں کہ ''کان لگانا'، غور کرنا، توجہ فرمانا، سنتا'' تو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہیں، لہٰذا تاویل کرنی چاہیے۔ گزارش ہے کہ ان تاویلات سے تو یہ احادیث ہی بے معنی ہو جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے اسمائے حسنی یہ سے محروم ہو جاتا ہے۔ تف ہے ایسی عقل پر جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھاتے بیٹھ جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کو جاننے والے تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت