فهرس الكتاب

الصفحة 1526 من 5761

کتاب: بارش کے وقت دعا کرنے سے متعلق احکام و مسائل

بارش کی نسبت ستارو ں کی طرف دیکھنا منع ہے

1526 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ مُطِرَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَمْ تَسْمَعُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ اللَّيْلَةَ قَالَ مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي مِنْ نِعْمَةٍ إِلَّا أَصْبَحَ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرِينَ يَقُولُونَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَأَمَّا مَنْ آمَنَ بِي وَحَمِدَنِي عَلَى سُقْيَايَ فَذَاكَ الَّذِي آمَنَ بِي وَكَفَرَ بِالْكَوْكَبِ وَمَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذَاكَ الَّذِي كَفَرَ بِي وَآمَنَ بِالْكَوْكَبِ

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مسعود میں ایک دفعہ عام بارش ہوئی تو آپ نے فرمایا: ''کیا تم جانتے نہیں کہ تمھارے رب تعالیٰ نے رات کیا کہا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جب میں اپنے بندوں پر کوئی نعمت (خصوصًا بارش) نازل فرماتا ہوں تو ان میں سے کچھ لوگ اس کے ساتھ کفر کرتے ہیں۔ کہتے ہیں: ہم پر فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی، البتہ جو شخص مجھ پر ایمان رکھتا ہے اور میرے بارش برسانے پر میری تعریف کرتا ہے، وہ حقیقتًا مومن ہے اور ستاروں کا کافر ہے (یعنی ستاروں کی طاقت و اختیار کا منکر ہے) اور جس شخص نے کہا: ہمیں فلاں ستارے سے بارش ہوئی۔ وہ میرے ساتھ کفر کرتا ہے اور ستاروں پر ایمان رکھتا ہے۔''

ہر نعمت کے مہیا ہونے اور ملنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ضروری ہے۔ نعمت کا حق بھی ادا ہوگا اور ایمان بھی پختہ ہوگا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت