1527 أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَتَّابِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَمْسَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَطَرَ عَنْ عِبَادِهِ خَمْسَ سِنِينَ ثُمَّ أَرْسَلَهُ لَأَصْبَحَتْ طَائِفَةٌ مِنْ النَّاسِ كَافِرِينَ يَقُولُونَ سُقِينَا بِنَوْءِ الْمِجْدَحِ
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اگر اللہ تعالیٰ پانچ سال تک اپنے بندوں سے بارش روک رکھے، پھر بھیجے، تب بھی کچھ لوگ ضرور کفر کریں گے۔ وہ کہیں گے: ہمیں مجدح ستارے سے بارش ملی ہے۔
(۱) امام نسائی رحمہ اللہ عمل الیوم واللیلۃ میں لکھتے ہیں کہ مجدح سے مراد شعری ستارہ ہے جبکہ امام سندھی رحمہ اللہ اس کی بابت لکھتے ہیں کہ یہ ستاروں میں سے ایک ستارہ ہے۔ اسے دبران کہتے ہیں۔ تین ستاروں کے مجموعے کو بھی مجدح کہا جاتا ہے۔ جو عربوں کے خیال میں بارش برساتا تھا، مگر یہ خیال غلط ہے۔ بات صرف اتنی تھی کہ ان تاروں کے طلوع کے زمانے میں بارش ہوتی تھی۔ (۲) ''مجدح'' میم کی زیر اور پیش دونوں کے ساتھ پڑھا جاسکتا ہے۔