فهرس الكتاب
نفل نماز بیٹھ کر پڑ ھی جاسکتی ہے' نیز ابو اسحاق کے شاگردوں کے اختلاف کاذکر
1656 أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ قَاعِدًا إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ وَكَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّ خَالَفَهُ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ فَرَوَاهُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات کے قریب فرض نماز کے علاوہ باقی نماز اکثر بیٹھ کر پڑھا کرت تھے۔ اور آپ کے نزدیک پسندیدہ عمل وہ تھا جس پر ہمیشگی کی جائے اگرچہ وہ کم ہو۔ عثمان بن ابوسلیمان نے ان کی مخالفت کی ہے انہوں نے یہ روایت عن ابی سلمۃ عن عائشہ کی سند سے بیان کی ہے