فهرس الكتاب
نفل نماز بیٹھ کر پڑ ھی جاسکتی ہے' نیز ابو اسحاق کے شاگردوں کے اختلاف کاذکر
1659 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا قَطُّ حَتَّى كَانَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِعَامٍ فَكَانَ يُصَلِّي قَاعِدًا يَقْرَأُ بِالسُّورَةِ فَيُرَتِّلُهَا حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے، فرماتی ہیں: میں نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر نفل نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا حتی کہ آپ کی وفات سے ایک سال قبل ایسا ہوا کہ آپ بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے، مگر آپ سورت کو اتنا ٹھہرٹھہر کر سکون سے پڑھتے تھے کہ وہ اپنے سے لمبی سورت سے بھی لمبی بن جاتی تھی۔