فهرس الكتاب
نفل نماز بیٹھ کر پڑ ھی جاسکتی ہے' نیز ابو اسحاق کے شاگردوں کے اختلاف کاذکر
1658 أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ قَالَ أَنْبَأَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ قَاعِدٌ قَالَتْ نَعَمْ بَعْدَ مَا حَطَمَهُ النَّاسُ
حضرت عبداللہ بن شقیق سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نفل) نماز بیٹھ کر پڑھتے تھے؟ انھوں نے فرمایا: ہاں، جب لوگوں (کی فکر اور ان کے کاموں کے بوجھ) نے آپ کو بوڑھا کردیا تھا۔
امام نسائی رحمہ اللہ کا اس روایت کو باربار (چھ بار) ذکر کرنے سے مقصود یہ بتانا ہے کہ بعض راویوں نے یہ روایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے نام سے بیان کی ہے اور بعض نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے۔ بادی النظر میں یہ کسی راوی کی غلطی لگتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ روایت دونوں سے منقول ہو اور مؤخرالذکر یہی بات ہی درست ہے۔ واللہ اعلم۔ نیچے سند میں بھی اختلاف ہے جو سند کو بغور دیکھنے سے سمجھ میں آسکتا ہے اور حل بھی ہوسکتا ہے۔