فهرس الكتاب
1744 أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْتَرَ بِسَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ لَا أَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ شَبَابَةَ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ خَالَفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ (سبح اسم ربک الاعلیٰ) کے ساتھ وتر پڑھا۔
امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ کسی راوی نے اس روایت میں شبابہ کی موافقت کی ہو۔ یحییٰ بن سعید نے شبابہ کی مخالفت کی ہے۔
(۱) یحییٰ اور شبابہ کا اختلاف متن کے الفاظ میں ہے۔ شبابہ نے اس روایت میں وتر کا ذکر کیا ہے جبکہ درحقیقت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کی روایت ظہر کے بارے میں ہے نہ کہ وتر کے بارے میں جیسا کہ یحییٰ بن سعید نے آئندہ حدیث میں بیان کیا ہے۔ اس کی تفصیل اس طرح ہے کہ شبابہ کو دووہم ہوئے ہیں: ایک یہ کہ انھوں نے عبدالرحمن بن ابزیٰ کی روایت کو عمران بن حصین کی روایت اقرار دیا ہے اور دوسرا یہ کہ عمران بن حصین کی روایت کو صحیح بیان کیا ہے۔ عمران بن حصین کی روایت وتر کے بارے میں نہیں بلکہ ظہر کے بارے میں ہے جیسا کہ یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ہے۔ واللہ اعلم۔ (۲) مؤلف رحمہ اللہ اس روایت کو باربار (۱۵بار) سند کے معمولی اختلافات بیان کرنے کے لیے لائے ہیں۔ ان روایات کی اسانید کو بغور دیکھنے سے وہ اختلاف واضح ہوجاتا ہے، مثلًا: یہ روایت بعض راویوں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے، بعض نے عبدالرحمن بن ابزیٰ رحمہ اللہ سے اور بعض نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے بیان کی ہے۔ وقف علی ھذا متن میں بھی اختلاف ہے۔ آخری دو روایتوں میں صرف ایک وتر کا ذکر ہے جبکہ باقی تمام میں تین وتر کا۔ (۳) بعض روایات میں تین دفعہ [سبحان الملک القدوس] کہنے کے بعد [رب الملائکۃ والروح] کا اضافہ بھی منقول ہے۔ دیکھیے: (سنن الدار قطنیٰ الوتر، باب مایقرأ فی رکعات الوتر والقنوت فیہ، حدیث:۱۶۴۴)