فهرس الكتاب

الصفحة 1745 من 5761

کتاب: رات کے قیام اور دن کی نفلی نماز کے متعلق احکام و مسائل

قراءت وتر کی روایت میں قتادہ کےشاگرد شعبہ پر اختلاف کا ذکر

1745 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَقَرَأَ رَجُلٌ بِسَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى فَلَمَّا صَلَّى قَالَ مَنْ قَرَأَ بِسَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى قَالَ رَجُلٌ أَنَا قَالَ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَهُمْ خَالَجَنِيهَا

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی۔ (آپ کے پیچھے) ایک آدمی نے سورۂ (سبح اسم ربک الاعلیٰ) (ہلکی سی آواز کے ساتھ) پڑھی۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ''سورۂ (سبح اسم ربک الاعلیٰ) کس نے پڑھی؟ ایک آدمی نے کہا: میں نے۔ آپ نے فرمایا: ''مجھے معلوم ہورہا تھا کہ کوئی شخص مجھے اشتباہ میں ڈال رہا ہے۔''

جہری نماز میں اثنائے قراءت امام کے پیچھے فاتحہ کے سوا قراءت کرنا منع ہے۔ سری نماز میں زائد قراءت کی جاسکتی ہے مگر وہ کسی کو سنائی نہ دے ورنہ شور ہوسکتا ہے، نیز ایک آدمی کے اونچا پڑھنے سے امام یا ساتھیوں کو غلجان و اشتباہ ہوسکتا ہے اور دوسروں کو پریشان کرنا قطعًا جائز نہیں۔ قراءت کے علاوہ دیگر اور دوتسبیحات بھی دوسروں کو سنائی نہیں دینی چاہییں، البتہ نمازی اکیلا ہو تو مناسب آواز سے پڑھ سکتا ہے۔ فرض ہوں یا نفل، نماز سری ہو یا جہری اور قراءت ہو یا تسبیحات واوراد۔ واللہ اعلم۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت