فهرس الكتاب

الصفحة 1890 من 5761

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

میت کوسات سے بھی زیادہ دفعہ غسل دینا

1890 أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ بَعْضِ إِخْوَتِهِ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ تُوُفِّيَتْ ابْنَةٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنَا بِغَسْلِهَا فَقَالَ اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ قَالَتْ قُلْتُ وِتْرًا قَالَ نَعَمْ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَعْطَانَا حِقْوَهُ وَقَالَ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی فوت ہوگئیں تو آپ نے ہمیں انھیں غسل دینے کا حکم دیا اور فرمایا: ''اسے تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا سات مرتبہ یا اس سے بھی زائد دفعہ، اگر ضرورت محسوس کرو تو غسل دینا۔'' میں نے کہا: جی طاق؟ آپ نے فرمایا: ''ہاں۔ اور آخری دفعہ کافور ڈال لینا۔ یا کچھ کافور (پانی میں) ملا لینا، پھر جب فارغ ہونا تو مجھے اطلاع کرنا۔'' جب ہم (غسل سے) قارغ ہوگئیں تو ہم نے آپ کو اطلاع کی۔ آپ نے اپنا تہ بند ہمیں دیا اور فرمایا: '' (سب سے پہلے) اسے اس میں لپیٹو۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت