فهرس الكتاب

الصفحة 1930 من 5761

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

کھڑانہ ہو نے کی رخصت

1930 وَأَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَيْضًا أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ حَتَّى تَوَارَتْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی ایک یہودی کے جنازے کو دیکھ کر کھڑےہوئے (اور پھر کھڑے رہے) حتی کہ وہ اوجھل ہوگیا۔

اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھڑے ہونے کی وجہ وہ ہوتی جو حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے (حدیث نمبر ۱۹۲۸) میں بیان فرمائی ہے تو پھر اتنی دیر کھڑے رہنے کی کیا ضرورت تھی کہ نظروں سے اوجھل ہونے تک کھڑے رہے؟ معلوم ہوتا ہے پہلی بیان کردہ وجوہات ہی اصل ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت