فهرس الكتاب

الصفحة 1931 من 5761

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

کھڑانہ ہو نے کی رخصت

1931 أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ قَالَ أَنْبَأَنَا النَّضْرُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ جَنَازَةً مَرَّتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ فَقِيلَ إِنَّهَا جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ فَقَالَ إِنَّمَا قُمْنَا لِلْمَلَائِكَةِ

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک جنازہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا تو آپ کھڑے ہوگئے۔

جنازہ آتا دیکھ کر کھڑےہونے کی تین وجوہات صحیح احادیث میں وارد ہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے فائدہ حدیث نمبر ۱۹۲۸۔ یہ تینوں وجوہات اب بھی قائم ہیں، لہٰذا راجح موقف کے مطابق جنازہ آتا دیکھ کر کھڑا ہونا افضل اور مستحب ہے صرف وجوب منسوخ ہے۔ واللہ أعلم۔ نیز اس مسئلے کی تفصیلی بحث کے لیے دیکھیے: (ذخیرۃ العقبی شرح سنن النسائي للإتبوبي: ۹۲-۸۷/۱۹)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت