فهرس الكتاب

الصفحة 1990 من 5761

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

جنازے کی دعائیں

1990 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى جَنَازَةٍ فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَخَذْتُ بِيَدِهِ، فَسَأَلْتُهُ فَقُلْتُ: تَقْرَأُ، قَالَ: «نَعَمْ، إِنَّهُ حَقٌّ وَسُنَّةٌ»

حضرت طلحہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے ایک جنازہ پڑھا۔ میں نے انھیں سورۂ فاتحہ پڑھتے سنا۔ جب وہ جنازے سے فارغ ہوئے تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور ان سے پوچھا کہ کیا آپ (جنازے میں) قراءت کرتے ہیں؟ انھوں نے فرمایا: ہاں، یہ حق ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سنت ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت