فهرس الكتاب

الصفحة 1991 من 5761

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

جنازے کی دعائیں

1991 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّهُ قَالَ: «السُّنَّةُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ أَنْ يَقْرَأَ فِي التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى بِأُمِّ الْقُرْآنِ مُخَافَتَةً، ثُمَّ يُكَبِّرَ ثَلَاثًا، وَالتَّسْلِيمُ عِنْدَ الْآخِرَةِ»

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نماز جنازہ میں سنت یہ ہے کہ پہلی تکبیر کے بعد سورۂ فاتحہ آہستہ پڑھے، پھر تین تکبیریں کہے اور آخری تکبیر کے بعد سلام پھیر دے۔

(۱) راویٔ حدیث حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ معروف صحابیٔ رسول، ابو امامہ باہلی نہیں ہیں بلکہ یہ اور صحابی ہیں جو انھی کی کنیت سے معروف ہیں انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شرف رویت نصیب ہے، اگرچہ براہ راست انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث نہیں سنی، یہ روایت بھی انھوں نے کسی اور صحابی کے واسطے سے لی ہے لیکن بلاواسطہ بیان فرما دی۔ محدثین کے نزدیک اسے مرسل صحابی کہتے ہیں، اور یہ قابل حجت ہوتی ہے۔ اسے مرفوع روایت ہی کا حکم ملتا ہے۔ مزید دیکھیے: (تعلیق أحکام الجنائز للألباني، ص:۱۴۱) (۲) ''سورۂ فاتحہ آہستہ پڑھے'' جبکہ پیچھے حدیث نمبر ۱۹۸۹ میں صراحتًا جہر کا ذکر ہے، لہٰذا دونوں طرح جائز ہے۔ آہستہ پڑھے یا بلند آواز سے۔ (۳) ''پھر تین تکبیریں کہے'' روایت مختصر ہے، یعنی تین تکبیریں اکٹھی نہیں کہی جائیں گی بلکہ تمام مل کر تین ہوں گی، یعنی الگ الگ۔ دوسری کے بعد درود، تیسری کے بعد دعا اور چوتھی کے بعد سلام جیسا کہ تفصیل حدیث: ۱۹۸۵ فائدہ، ۴ میں گزر چکی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت