فهرس الكتاب

الصفحة 2185 من 5761

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں راویوں کے اختلاف کا بیان

2185 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي يُوسُفَ الصَّيْدَلَانِيُّ حَرَّانِيٌّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ سَأَلْتُهَا عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ وَلَمْ يَصُمْ شَهْرًا تَامًّا مُنْذُ أَتَى الْمَدِينَةَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَمَضَانُ

حضرت عبداللہ بن شقیق سے منقول ہے کہ میں نے حضرت عائشہؓ سے رسول اللہﷺ کے (نفل) روزوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہﷺ روزے رکھنے لگتے تو ہم کہتے کہ رکھتے ہی رہیں گے اور چھوڑتے تو ہم کہتے: چھوڑے ہی رہیں گے۔ اور آپ نے مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد رمضان المبارک کے علاوہ کبھی مسلسل ایک مہینہ روزے نہیں رکھے۔

''مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد'' کیونکہ حضرت عائشہؓ کو اس کے بعد کے بارے میں ہی علم ہے، ورنہ یہ مطلب نہیں کہ مدینہ منورہ آنے سے پہلے آپ مسلسل روزے رکھتے تھے بلکہ پہلے بھی آپ کی عادت مبارک یہی تھی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت