جو شخص رمضان المبارک میں ایمان اور ثواب کے مد نظر صیام و قیام کرے'اسے کیا ثواب ملے گا؟اور اس کی بابت وارد حدیث میں زہری کے شاگردوں کا اختلاف
2197 أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَغِّبُهُمْ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ بِعَزِيمَةِ أَمْرٍ فِيهِ فَيَقُولُ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ (رمضان المبارک کے دوران میں) آدھی رات کو گھر سے نکل کر مسجد میں نماز پڑھنے لگے۔ اور (راوی نے) پوری حدیث بیان کی، اس میں یہ بھی کہا: رسول اللہa لوگوں کو قیام رمضان کی ترغیب دلایا کرتے تھے، بغیر اس کے کہ آپ ان کو اس کا قطعی حکم دیں۔ آپ فرماتے تھے: ''جو شخص ایمان کی بنیاد پر اور ثواب کی نیت سے رمضان المبارک کی راتوں میں نفل نماز پڑھے گا، اس کے سب پہلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔''