جو شخص رمضان المبارک میں ایمان اور ثواب کے مد نظر صیام و قیام کرے'اسے کیا ثواب ملے گا؟اور اس کی بابت وارد حدیث میں زہری کے شاگردوں کا اختلاف
2198 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِرَمَضَانَ مَنْ قَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو رمضان المبارک کے بارے میں فرماتے سنا: ''جو شخص ایمان کی بنا پر اور ثواب کی نیت سے اس کی راتوں کا قیام کرے گا (یعنی تراویح پڑھے گا) اس کے سب پہلے گناہ معاف کر کر دیے جائیں گے۔''