فهرس الكتاب

الصفحة 2371 من 5761

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل

نبیﷺ'آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں'کے روزے کا بیان اور اس بارے میں وارد روایت کے ناقلین کےاختلاف کا ذکر

2371 أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَكْعَتَيْ الضُّحَى وَأَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ الشَّهْرِ

حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے انھوں نے فرمایا: رسول اللہﷺ نے ضحی (چاشت) کی دو رکعتیں پڑھا کروں اور بغیر وتر پڑھے نہ سوؤں اور ہر مہینے میں تین روزے رکھوں۔

یہ حکم استحبابی ہے وجوبی نہیں کیونکہ مذکورہ تینوں کام بالاتفاق مستحبات میں شمار ہوتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت