نبیﷺ'آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں'کے روزے کا بیان اور اس بارے میں وارد روایت کے ناقلین کےاختلاف کا ذکر
2372 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ وَسُئِلَ عَنْ صِيَامِ عَاشُورَاءَ قَالَ مَا عَلِمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ يَوْمًا يَتَحَرَّى فَضْلَهُ عَلَى الْأَيَّامِ إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ يَعْنِي شَهْرَ رَمَضَانَ وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ
حضرت عبیداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سنا جبکہ حضرت ابن عباسؓ سے عاشوراء کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا، آپ نے فرمایا: میں تو نہیں جانتا کہ نبیﷺ نے کسی دن کو دوسرے دنوں سے افضل سمجھ کر اس کا روزہ رکھا ہو، سوائے اس دن کے، یعنی عاشوراء اور ماہ رمضان المبارک کے۔
ماہ رمضان المبارک کی فضیلت کے بارے میں تو کوئی کلام ہی نہیں، اس کے بعد یوم عاشوراء یعنی دس محرم الحرام افضل ہے۔ اس دن بہت سے اہم کام سر انجام پائے۔