فهرس الكتاب

الصفحة 3195 من 5761

کتاب: جہاد سے متعلق احکام و مسائل

جو شخص کسی غازی کی بیوی سے خیانت کا ارتکاب کرے

3195 أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ مُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ هُوَ الشَّامِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ الْأَصْبَغِ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ وَقَالَ مَنْ خَافَ ثَأْرَهُنَّ فَلَيْسَ مِنَّا

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے سانپ قتل کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ''جو شخص ان کے انتقام اور بدلے سے ڈرتا ہے' وہ ہم میں سے نہیں۔''

(1) اس حکم سے گھریلو سانپ مستثنیٰ ہیں کیونکہ صحیح راویات میںان کے قتل سے روکا گیا ہے۔ ممکن ہے یہ حدیث پہلے کی ہو۔ جن سانپوں کو قتل کرنے کی اجازت ہے' ان کے انتقام سے نہیں ڈرنا چاہیے' البتہ جن کے قتل سے روکا گیا ہے انہیں قتل نہ کرے' انتقام کا خطرہ ہو یا نہ۔ اس روایت کا کتاب الجہاد سے تعلق یوں ہے کہ دوران سفر میں سانپوں سے واسطہ پڑسکتا ہے۔ (2) ''وہ ہم میں سے نہیں'' یعنی وہ ہمارے طریقے پر نہیں۔ ہم سانپوں کے انتقام سے نہیں ڈرتے' نہ مسلمانوں کو ڈرنا چاہیے۔ مذکورہ روایت کو محقق کتاب نے سندًا ضعیف قراردیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ ا س سے سنن ابی داود کی روایت نمبر: ۵۲۴۸ اور ۵۲۵۲ کفایت کرتی ہیں۔ بنایریں مذکورہ روایت ''سندًا ضعیف ہونے کے باوجود قابل عمل ہے۔ واللہ اعلم۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت