فهرس الكتاب

الصفحة 3357 من 5761

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

بغیر مہر کے نکاح کے جواز کا بیان

3357 أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ أُتِيَ فِي امْرَأَةٍ تَزَوَّجَهَا رَجُلٌ فَمَاتَ عَنْهَا وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَاخْتَلَفُوا إِلَيْهِ قَرِيبًا مِنْ شَهْرٍ لَا يُفْتِيهِمْ ثُمَّ قَالَ أَرَى لَهَا صَدَاقَ نِسَائِهَا لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ وَلَهَا الْمِيرَاثُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ فَشَهِدَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي بَرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ بِمِثْلِ مَا قَضَيْتَ

حضرت علقمہ سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک عورت کے بارے میں پوچھا گیا جس سے آدمی نے نکاح کیا اور وہ مرگیا۔ ابھی تک نہ تو ا س نے مہر مقرر کیا تھا اور نہ اس سے جماع ہی کیا تھا۔ وہ لوگ تقریبًا ایک ماہ تک آتے رہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود انہیں کوئی فتویٰ نہیں دے رہے تھے۔ آخر کار فرمایا: میرا خیال ہے کہ اسے اس جیسی عورتوں کے مطابق مہر ملے گا۔ نہ کم نہ زیادہ۔ اسے (خاوند سے) وراثت بھی ملے گی اور اسے عدت بھی گزارنی ہو گی۔ تو حضرت معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ نے گواہی دی کہ رسول اللہﷺ نے حضرت بروع بنت واشق رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ کے فیصلے جیسا فیصلہ فرمایا تھا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت