فهرس الكتاب

الصفحة 348 من 5761

کتاب: پانی کی مختلف اقسام سے متعلق احکام و مسائل

وضو اور غسل کے لیے انسان کوکتنا پانی کافی ہے؟

348 أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَقَ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضو ایک مد کے ساتھ اور غسل ایک صاع سے فرما لیا کرتے تھے۔

صاع چار مد کا ہوتا ہے۔ غسل کے لیے کہیں صاع، کہیں تقریبًا صاع، کہیں پانچ رطل اور کہیں آٹھ رطل کا ذکر ہے۔ مفہوم اتنا مختلف نہیں۔ ''تقریبًا صاع'' کے لفظ بھی اس کی تائید کرتے ہیں۔ صاع تقریبًا ڈھائی کلو کا ہوتا ہے، گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ڈھائی، تین کلو پانی سے بھی غسل فرما لیا کرتے تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت