فهرس الكتاب

الصفحة 3570 من 5761

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

سوگ والی عورت کے لیے سرمہ لگانا منع ہے

3570 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى بْنِ مَعْدَانَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَعْيَنَ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ مَوْلَى الْأَنْصَارِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَقَدْ خِفْتُ عَلَى عَيْنِهَا وَهِيَ تُرِيدُ الْكُحْلَ فَقَالَ قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ وَإِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا فَقُلْتُ لِزَيْنَبَ مَا رَأْسُ الْحَوْلِ قَالَتْ كَانَتْ الْمَرْأَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا هَلَكَ زَوْجُهَا عَمَدَتْ إِلَى شَرِّ بَيْتٍ لَهَا فَجَلَسَتْ فِيهِ حَتَّى إِذَا مَرَّتْ بِهَا سَنَةٌ خَرَجَتْ فَرَمَتْ وَرَاءَهَا بِبَعْرَةٍ

حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ ایک قریشی عورت رسول اللہﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کا خاوند فوت ہوگیا ہے۔ مجھے اس کی آنکھوں کا خطرہ ہے۔ اس کا مقصد سرمہ کی اجازت حاصل کرنا تھا۔ آپ نے فرمایا: ''' اس سے پہلے تم میں سے ایسی عورت ایک سال کے بعد مینگنی پھینکا کرتی تھی۔ اب تو عدت صرف چار ماہ دس دن ہے۔'' راوی نے کہا کہ میں نے حضرت زینب سے پوچھا: سال کے بعد مینگنی پھینکنے کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے فرمایا: جاہلیت میں جب کسی عورت کا خاوند فوت ہوجاتا تو وہ اپنے سب سے گندے گھر میں جا کر بیٹھ جاتی حتیٰ کہ جب اسے ایک سال گزرجاتا تو وہ نکلتی اور اپنے پیچھے مینگنی پھینکتی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت