فهرس الكتاب

الصفحة 3672 من 5761

کتاب: وصیت سے متعلق احکام و مسائل

وارث کے حق میں وصیت کرنا جائز نہیں

3672 أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ أَنَّ ابْنَ غُنْمٍ ذَكَرَ أَنَّ ابْنَ خَارِجَةَ ذَكَرَ لَهُ أَنَّهُ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَإِنَّهَا لَتَقْصَعُ بِجَرَّتِهَا وَإِنَّ لُعَابَهَا لَيَسِيلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُطْبَتِهِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ قَسَّمَ لِكُلِّ إِنْسَانٍ قِسْمَهُ مِنْ الْمِيرَاثِ فَلَا تَجُوزُ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ

حضرت ابن خارجہ رضی اللہ عنہ نے ذکر فرمایا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو اپنی سواری پر خطبہ ارشاد فرماتے دیکھا اور سنا ہے' جبکہ سواری جگالی کررہی تھی اور اس کا لعاب (میرے کندھے کے درمیان) گررہا تھا۔ رسول اللہﷺ نے اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا: ''اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو وراثت میں سے حصہ دے دیا ہے' لہٰذا وارث کے لیے وصیت جائز نہیں۔''

: (۱) ''لعاب گر رہاتھا'' گویا یہ اونٹنی کی گردن کے نیچھے کھڑے تھے۔ ممکن ہے اوبًا مہارپکڑ رکھی ہو۔ (۲) ''ہرشخص کو'' یعنی جسے وراثت کا اہل سمجھا۔ اکثر ورثاء کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔ بعض ورثاء کے حصوں کا ذکر احادیث میں ہے' مثلًا: دادی' نانی کاحصہ۔ ان سب حصوں کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہی ہے کیونکہ حدیث تو بھی تو وحی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت