فهرس الكتاب

الصفحة 3683 من 5761

کتاب: وصیت سے متعلق احکام و مسائل

میت کی طرف سے صدقہ کرنے کی فضیلت

3683 أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنَّ أُمِّي أَوْصَتْ أَنْ تُعْتَقَ عَنْهَا رَقَبَةٌ وَإِنَّ عِنْدِي جَارِيَةً نُوبِيَّةً أَفَيُجْزِئُ عَنِّي أَنْ أُعْتِقَهَا عَنْهَا قَالَ ائْتِنِي بِهَا فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ رَبُّكِ قَالَتْ اللَّهُ قَالَ مَنْ أَنَا قَالَتْ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ فَأَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ

حضرت ثرید بن سوید ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے' انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہﷺ کی خدمت اقدس میںحاضر ہوا اور عرض کیا کہ میری والدہ نے (وفات کے وقت) وصیت کی تھی کہ میری طرف سے ایک غلام آزاد کیا جائے۔ میرے پاس ایک حبشی لونڈی ہے۔ اگر میں اسے آزاد کرادوں تو کیا میری ذمہ داری ادا ہوجائے گی؟ آپ نے فرمایا: ''اسے میرے پاس لے کر آ۔'' میں لے کر آیا نبیﷺ نے اسے فرمایا: ''تیرا رب کون ہے؟'' اس نے کہا: اللہ۔ آپ نے فرمایا: ''میں کون ہوں؟'' اس نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ آپ نے فرمایا: ''اسے آزاد کردے۔ یہ مومن ہے۔''

(۱) معلوم ہوا کہ مومن کو آزاد کرنا افضل ہے' نیز غلام' لونڈی کی آزادی برابرا ہے۔ (۲) جو شخص اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور رسول اللہﷺ کی رسالت کا اقرار کرے تو اس کے اقرار کو تسلیم کیا جائے گا۔ اس سے مزید کسی دلیل کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت