فهرس الكتاب
عطیہ کرنے کے بارے میں حضرت نعمان بن بشیرؓ کی روایت کے ناقلین کے لفظی اختلاف کا بیان
3713 أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ عَامِرٍ قَالَ أُخْبِرْتُ أَنَّ بَشِيرَ بْنَ سَعْدٍ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ امْرَأَتِي عَمْرَةَ بِنْتَ رَوَاحَةَ أَمَرَتْنِي أَنْ أَتَصَدَّقَ عَلَى ابْنِهَا نُعْمَانَ بِصَدَقَةٍ وَأَمَرَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ عَلَى ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ لَكَ بَنُونَ سِوَاهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَعْطَيْتَهُمْ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَ لِهَذَا قَالَ لَا قَالَ فَلَا تُشْهِدْنِي عَلَى جَوْرٍ
حضرت عامرشعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے' انہو ںنے کہا: مجھے بتایا گیا ہے کہ حضرت بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں اس کے بیٹے نعمان کو کوئی عطیہ دوں اور پھر آپ کو اس (عطیے) پر گواہ بھی بناؤں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ''کیا اس کے علاوہ بھی تیرے بیٹے ہیں؟'' انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ''تو نے ان کو بھی ایسا تحفہ دیا ہے؟'' انہوں نے کہا: نہیں۔ تو آپ نے فرمایا: ''مجھے ظلم پر گواہ نہ بناؤ۔''