فهرس الكتاب

الصفحة 3733 من 5761

کتاب: ہبہ سے متعلق احکام و مسائل

ہبہ اور تحفے میں رجوع کرنے کے بارے میں طاوس پر اختلاف کا ذکر

3733 أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ الْأَزْرَقُ قَالَ حَدَّثَنَا بِهِ حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يُعْطِيَ الْعَطِيَّةَ فَيَرْجِعَ فِيهَا إِلَّا الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ فَيَرْجِعُ فِيهَا كَالْكَلْبِ يَأْكُلُ حَتَّى إِذَا شَبِعَ قَاءَ ثُمَّ عَادَ فَرَجَعَ فِي قَيْئِهِ

حضرت ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے' انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''کسی شخص کے لیے حلال نہیں کہ وہ عطیہ دے کر واپس لے مگر والد اپنی اولاد کو عطیہ دے کر واپس لے سکتا ہے۔ اور جو شخص عطیہ دے کر واپس لیتا ہے' وہ اس کتے کی طرح ہے جو کھاتا ہے حتی کہ جب (ضرورت سے زیادہ) سیر ہوجاتا ہے تو قے کردیتا ہے' پھر دوبارہ اسے چاٹنا شروع کردیتا ہے۔''

تفصیل حدیث: ۳۷۱۹ میں گزر چکی ہے ۔والد کے لیے رجوع اس لیے بھی جائز ہے کہ اسے تادیب کے لیے اس کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ اور اولاد کو ادب سکھانا عطیہ سے بہت افضل ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت