فهرس الكتاب

الصفحة 3778 من 5761

کتاب: عمریٰ سے متعلق احکام و مسائل

اس حدیث میں امام زہری پر اختلاف کا ذکر

3778 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ عَنْ ابْنِ أَبِي فُدَيْكٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِيمَنْ أُعْمِرَ عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَهِيَ لَهُ بَتْلَةٌ لَا يَجُوزُ لِلْمُعْطِي مِنْهَا شَرْطٌ وَلَا ثُنْيَا قَالَ أَبُو سَلَمَةَ لِأَنَّهُ أَعْطَى عَطَاءً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيثُ فَقَطَعَتْ الْمَوَارِيثُ شَرْطَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے اس شخص کے بارے میں فیصلہ فرمایا جسے کوئی چیز اس کے لیے اور اس کی اولاد کے لیے بطور عمریٰ دی گئی: ''وہ مستقل طور پر اس کی ہوچکی۔ دینے والا اس میں نہ کوئی شرط لگا سکتا ہے نہ کوئی استثنا کرسکتا ہے۔''

(راوئی حدیث) حضرت ابوسلمہ نے کہا: اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے ایسا عطیہ دیا ہے جس میں وراثت واقع ہوگی' لہٰذا میراث نے اس کی ہر قسم کی شرط ختم کردی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت