فهرس الكتاب

الصفحة 3780 من 5761

کتاب: عمریٰ سے متعلق احکام و مسائل

اس حدیث میں امام زہری پر اختلاف کا ذکر

3780 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْعُمْرَى أَنْ يَهَبَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ وَلِعَقِبِهِ الْهِبَةَ وَيَسْتَثْنِيَ إِنْ حَدَثَ بِكَ حَدَثٌ وَبِعَقِبِكَ فَهُوَ إِلَيَّ وَإِلَى عَقِبِي إِنَّهَا لِمَنْ أُعْطِيَهَا وَلِعَقِبِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے عمریٰـ کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ جب کوئی شخص دوسرے کو اس کی الاد تک کے لیے کوئی ہبہ کردے اور پھر یہ استثنا کرے کہ اگر تجھے اور تیری اولاد کو کوئی حادثہ پیش آگیا تو یہ ہبہ مجھے اور میری اولاد کو مل جائے گا۔ (آپ نے فیصلہ فرمایا:) ''وہ ہبہ اسی کا ہے جسے دیا گیا اور اس کی اولاد کا ہے۔''

حدیث: ۳۷۷۴ سے اس حدیث تک عمریٰ کی یہ صورت بیان کی گئی ہے کہ یہ چیز تیرے اور تیری اولاد کے لیے ہے۔ ظاہر ہے یہ چیز تو واپس آنے سے رہی کیونکہ دینے والا خود ''اولاد'' کی صراحت کرچکا ہے۔ اس قسم کی احادیث سے امام مالک رحمہ اللہ نے استدلال فرمایا ہے کہ اگر عمریٰ دینے والا ''اولاد'' کی صراحت نہ کرے تو وہ چیز معمرلہ کی وفات کے بعد دینے والے کو واپس مل جائے گی۔ مگر استدلال کمزور ہے کیونکہ اس کی صراحت نہیں کی گئی۔ صرف ان احادثی سے ایسے مفہومًا سمجھ میں آتا ہے جبکہ دیگر احادیث میں صراحتًا صرف عمریٰ کا لفظ کہنے پر بھی واپسی کی نفی کی گئی ہے۔ چاہے اس نے اولاد کا ذکر نہ بھی کیا ہو۔ جب منطوق (صراحت) اور مفہوم میں مقابلہ ہو تو منطوق (صراحت) ہی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ تفصیل پیچھے بیان ہوچکی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت