فهرس الكتاب

الصفحة 3788 من 5761

کتاب: عمریٰ سے متعلق احکام و مسائل

کیا عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر عطیہ دے سکتی ہے

3788 أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ح و أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ قَامَ خَطِيبًا فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ لَا يَجُوزُ لِامْرَأَةٍ عَطِيَّةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا

حضرت عمروبن شعیب کے پردادا محترم (حضرت عبداللہ بن عمروبن عاصd) سے راویت ہے' انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہﷺ نے مکہ مکرمہ فتح کیا تو آپ نے اپنے خطبے میں فرمایا: ''کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر (خاوند کے مال سے) عطیہ دے۔''

محقق کتاب نے یہاں اس حدیث کی سند کو ضعیف کہا ہے۔ پیچھے حدیث: ۲۵۴۱ میں اس کی سند کو حسن اور سنن ابوداود (حدیث: ۳۵۴۷) میں مطلقًا حسن کہا ہے۔ محقق کتاب کا عمل یہاں اس حدیث کی سند کو ضعیف کہنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ دلائل کی رو سے راجح بات یہ ہے کہ حدیث اور قابل عمل ہے۔ واللہ اعلم۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت