فهرس الكتاب

الصفحة 3789 من 5761

کتاب: عمریٰ سے متعلق احکام و مسائل

کیا عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر عطیہ دے سکتی ہے

3789 أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ هَانِئٍ عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلْقَمَةَ الثَّقَفِّيِّ قَالَ قَدِمَ وَفْدُ ثَقِيفٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُمْ هَدِيَّةٌ فَقَالَ أَهَدِيَّةٌ أَمْ صَدَقَةٌ فَإِنْ كَانَتْ هَدِيَّةٌ فَإِنَّمَا يُبْتَغَى بِهَا وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَضَاءُ الْحَاجَةِ وَإِنْ كَانَتْ صَدَقَةٌ فَإِنَّمَا يُبْتَغَى بِهَا وَجْهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالُوا لَا بَلْ هَدِيَّةٌ فَقَبِلَهَا مِنْهُمْ وَقَعَدَ مَعَهُمْ يُسَائِلُهُمْ وَيُسَائِلُونَهُ حَتَّى صَلَّى الظُّهْرَ مَعَ الْعَصْرِ

حضرت عبدالرحمن بن علقمہ ثقفی سے منقول ہے کہ بنوثقیب کا وفد رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان کے ساتھ تحفے تحائف بھی تھے۔ آپ نے فرمایا: ''یہ تحفہ ہیں یا صدقہ؟ اگر تحفے ہیں تو ان سے رسول اللہﷺ کی رضا مندی مقصود ہوگی اور اپنا کوئی مقصد پورا کرنا مطلوب ہوگا اور اگر صدقہ ہیں تو اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی مقصود ہوگی۔'' انہوں نے کہا: یہ تحفے ہیں۔ آپ نے ان سے تحائف قبول فرمائے اور ان کے ساتھ تشریف فرماہوگئے تھے۔ آپ ان سے حال احوال پوچھتے تھے' وہ آپ سے پوچھتے رہے' حتیٰ کہ آپ نے ظہر کی نماز عصر کے ساتھ پڑھی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت