فهرس الكتاب
3932 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ وَكِيعٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ قَالَ سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ الْبَيْضَاءِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ فَقَالَ حَلَالٌ لَا بَأْسَ بِهِ ذَلِكَ فَرْضُ الْأَرْضِ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ وَرَفَعَهُ كَمَا رَوَاهُ مَالِكٌ عَنْ رَبِيعَةَ
حضرت حنظلہ بن قیس سے مروی ہے' کہتے ہیں کہ میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے خالی زمین سونے چاندی کے عوض ٹھیکے پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: جائز ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔ منع تو تب ہے جب زمین کی پیداوار کے حصے کے عوض دی جائے۔
یحییٰ بن سعید نے بھی یہ روایت حنظلہ بن قیس سے بیان کی ہے اور انہوں نے اسے مرفوع بیان کیا ہے۔ جس طرح کہ امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے ربیعہ سے مرفوع بیان کیا ہے۔
معلوم یوں ہوتا ہے کہ سونے چاندی کے عوض جائز قراردینا حضرت رافع بن خدیج کا اپنا اجتہاد ہے جیسا کہ آئندہ حدیث سے واضح ہورہا ہے ورنہ رسول اللہﷺ نے جس انداز سے بٹائی سے منع فرمایا ہے اس انداز کے مطابق سونے چاندی کے عوض بھی درست نہ ہونا چاہیے کیونکہ آپ نے غرباء سے ہمدردی کے طور پر بٹائی سے روکا ہے جیسا کہ سابقہ احادیث میں صراحت ہے' لہٰذا سونے چاندی کے عوض بھی منع ہونا چاہیے کیونکہ یہ بھی غریب سے ہمدردی کے خلاف ہے بلکہ غریب کے لیے بٹائی ٹھیکے سے بہتر ہے۔ (دیکھئے' حدیث:۳۹۲۱)