فهرس الكتاب
3933 أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ فِي حَدِيثِهِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ أَرْضِنَا وَلَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ ذَهَبٌ وَلَا فِضَّةٌ فَكَانَ الرَّجُلُ يُكْرِي أَرْضَهُ بِمَا عَلَى الرَّبِيعِ وَالْأَقْبَالِ وَأَشْيَاءَ مَعْلُومَةٍ وَسَاقَهُ رَوَاهُ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَاخْتُلِفَ عَلَى الزُّهْرِيِّ فِيهِ
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہﷺ نے اپنی زمینیں بٹائی پر دینے سے منع فرمایا۔ ان دنوں سونے چاندی کے عوض زمین دینے کا روج نہ تھا بلکہ آدمی اپنی زمین نالوں کے قریب اگنے والیفصل اور معین غلے کے عوض بٹائی پر دیتا تھا' پپر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
یہ حدیث سالم بن عبداللہ بن عمر نے رافع بن خدیج سے بیان کی ہے اور اس حدیث میں امام زہری پر اختلاف کیا گیا ہے۔ (زہری کے شاگردوں نے اختلاف کیا ہے۔ زہری کی بیان کردہ روایات کو دیکھنے سے یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے۔)