فهرس الكتاب

الصفحة 3943 من 5761

کتاب: مزارعت سے متعلق احکام و مسائل

تہائی یا چوتھائی پیداوار کی شرط پر زمین بٹائی پر دینے سے ممانعت کی مختلف روایات اور اس روایت کے ناقلین کے اختلافات الفاظ کا ذکر

3943 أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ بْنِ أَعْيَنَ قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُكْرِي الْمَزَارِعَ فَحُدِّثَ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَأْثُرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ ذَلِكَ قَالَ نَافِعٌ فَخَرَجَ إِلَيْهِ عَلَى الْبَلَاطِ وَأَنَا مَعَهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ نَعَمْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ فَتَرَكَ عَبْدُ اللَّهِ كِرَاءَهَا

حضرت نافع سے راویت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ زمینیں کرائے پر دیا کرتے تھے۔ انہیں بتایا گیا کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ حضرت نافع نے کہا کہ حضرت ابن عمربلاط میں ان کے پاس گئے۔ میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ آپ نے ان سے (اس کے متعلق) پوچھا تو انہوں نے کہا: ہاں' واقعتا رسول اللہﷺ نے زمینوں کا کرایہ لینے سے منع فرمایا ہے' اس لیے حضرت عبداللہ زمینوں کا کرایہ لیناچھوڑدیا۔

(۱) کرائے کی دوصورتیں ہیں: ایک زمین کی پیداوار کاحصہ' دوسری رقم۔ اگر زمین پیداوار کے حصے کے عوض دی جائے تو اسے بٹائی کہتے ہیں اور اگر رقم کے عوض کاشت کے لیے دی جائے تو اسے ٹھیکہ کہتے ہیں۔ عربی زبان میں دونوں کو کراء کہتے ہیں۔ (۲) بلاط، مسجد نبوی اور بازار کے درمیان ایک جگہ کا نام تھا اور جہاں لوگ اکٹھے ہوتے تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت