فهرس الكتاب

الصفحة 4105 من 5761

کتاب: کافروں سے لڑائی اور جنگ کا بیان

جو شخص تلوار ننگی کر کے لوگوں پر چلائے؟

4105 أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ نَافِعًا، أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیٔ اکرمﷺ نے فرمایا: ''جو شخص ہم (مسلمانوں) پر ہتھیار اٹھائے، وہ ہم میں سے نہیں۔''

''وہ ہم میں سے نہیں'' یعنی ظاہرًا کیونکہ مسلمانوں کو قتل کرنا کافروں کا کام ہے، نیز اگر وہ علانیہ مسلمانوں کو قتل کرتا پھرتا ہے جیسے ڈاکو یا باغی تو وہ محاربین میں داخل ہے۔ البتہ اگر جذبات میں آ کر نادانستہ اس سے اسلحہ کے ساتھ قتل صادر ہو جائے تو وہ کافر نہ بنے گا بلکہ اس پر حالات کے مطابق قصاص یا دیت کا حکم لاگو ہو گا۔ سزا ملنے کے بعد معافی ممکن ہے کیونکہ وہ مسلمان ہے۔ و اللہ اعلم۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت