4590 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الْهُذَيْلِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي قَبْضِ الدَّنَانِيرِ مِنْ الدَّرَاهِمِ أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُهَا إِذَا كَانَ مِنْ قَرْضٍ
حضرت ابراہیم نخعی درہم کی جگہ دینار لینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے مگر جب وہ قرض کے ہوں۔
یہ اس لیے کہ قرض کی صورت میں امکان ہے کہ قرض خواہ قیمت کی صورت میں کچھ مفاد حاصل کرے گا اور جب قرض سے کوئی مفاد حاصل کیا جائے گا تو وہ سود بن جاتا ہے لیکن یہ صرف ایک امکان ہے۔ اس کی وجہ سے دراہم کی جگہ دینار لینے سے منع نہیں کیا جا سکتا بشرطیکہ کوئی مفاد حاصل نہ کیا جائے جیسا کہ آئندہ حدیث میں ذکر ہے۔