فهرس الكتاب

الصفحة 4708 من 5761

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

شفعہ اور اس کے احکام

4708 أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ مَالٍ لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ، وَعُرِفَتِ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ»

حضرت ابو سلمہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''شفعہ ہر اس مال میں ہے جو تقسیم نہ ہوا ہو۔ جب الگ الگ حد بندی ہو جائے اور راستے بھی الگ الگ ہو جائیں تو شفعہ باقی نہیں رہتا۔''

امام مالک، امام شافعی اور محدثین اسی کے قائل ہیں، البتہ احناف صرف پڑوسی کے لیے بھی شفعہ کے قائل ہیں۔ اس حدیث میں وہ تاویل کرتے ہیں کہ یہاں شفعہ کی شرکت کی نفی ہے نہ کہ شفعہ جوار کی، حالانکہ صراحت کے ساتھ ہر شفعہ کی نفی کی گئی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت