فهرس الكتاب

الصفحة 4838 من 5761

کتاب: قسامت 'قصاص اور دیت سے متعلق احکام و مسائل

کیا کسی شخص کو دوسرے کے جرم میں پکڑا جا سکتا ہے؟

4838 أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ قَالَ: انْتَهَى قَوْمٌ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ قَتَلُوا فُلَانًا - رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى»

حضرت ثعلبہ بن زہدم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: بنو ثعلبہ کے کچھ لوگ نبی اکرمﷺ کے پاس پہنچے جبکہ آپ خطاب فرما رہے تھے۔ ایک دمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان بنو ثعلبہ بن یربوع نے نبیﷺ کے فلاں شخص کے جرم کا کوئی دوسرا شخص ذمہ دار نہیں ہوتا۔''

آپ کا مقصد یہ تھا کہ قاتل کوئی اور ہیں اور یہ آنے والے لوگ اور ہیں۔ صرف قبیلہ ایک ہونے کی وجہ سے یہ لوگ مجرم نہیں بن سکتے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت