فهرس الكتاب

الصفحة 4839 من 5761

کتاب: قسامت 'قصاص اور دیت سے متعلق احکام و مسائل

کیا کسی شخص کو دوسرے کے جرم میں پکڑا جا سکتا ہے؟

4839 أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ هِلَالٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ، أَنَّ نَاسًا مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ قَتَلُوا فُلَانًا - رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى»

بنو ثعلبہ بن یربوع (قبیلے) میں سے ایک شخص سے روایت ہے کہ بنو ثعلبہ کے کچھ لوگ نبی اکرمﷺ کے پاس آئے تو ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان بنو ثعلبہ بن یربوع نے نبیﷺ کے فلاں صحابی کو قتل کیا تھا۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ''کوئی شخص کسی دوسرے کے جرم کا ذمہ دار نہیں۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت