فهرس الكتاب

الصفحة 4901 من 5761

کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے کا بیان

مخزومی چور عورت والی زہری کی روایت میں لفظی اختلاف

4901 أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا مَا نُكَلِّمُهُ فِيهَا مَا مِنْ أَحَدٍ يُكَلِّمُهُ إِلَّا حِبُّهُ أُسَامَةُ فَكَلَّمَهُ فَقَالَ يَا أُسَامَةُ إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ هَلَكُوا بِمِثْلِ هَذَا كَانَ إِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ وَإِنْ سَرَقَ فِيهِمْ الدُّونُ قَطَعُوهُ وَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ لَقَطَعْتُهَا

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کے دور مبارک میں چوری کرلی ۔ لوگ کہنے لگے: ہم تو اس کے بارے میں آپ سے بات نہیں کرسکتے اور بھی کوئی نہیں کرسکتا مگر اسامہ جو آپ کو بہت پیارے ہیں ۔ حضرت اسامہ ﷜ نے آپ سے سفارش کی تو آپ نے فرمایا: اے اسامہ ! بنی اسرائیل اس جیسے کاموں کی وجہ سے ہلاک ہوئے ۔ جب ان میں سے کوئی بلند مرتبہ شخص چوری کرلیتا تو اس کو چھوڑ دیتے اور اگر کوئی کم مرتبہ شخص ان میں چوری کر بیٹھتا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیتے ۔ اگر ( چوری کرنے والی ) محمد (ﷺ) کی بیٹی فاطمہ ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔''

'' ہلاک ہوئے'' ہلاکت سے مراد اخروی ہلاکت بھی ہوسکتی ہے اور دنیوی بھی کیونکہ حدود کا نفاذ نہ کرنے سے جرائم بڑھتے ہیں اور جرائم کی کثرت قوموں کی تباہی کا باعث بنتی ہے نیز نافرمانی سے عذاب بھی آتا ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت