اللہ تعالی ٰ کے فرمان: ''بدوی کہتے ہیں ہم ایمان لائے کہہ دیجیے: (ابھی ) تم میں ایمان نہیں آیا بلکہ تم کہو، ہم مسلمان ہو گئے ۔،،کی تفسیر
4997 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَمْرٍو عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ بِشْرِ بْنِ سُحَيْمٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُنَادِيَ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَهِيَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ
حضرت بشربن سحیم ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایام تشریق میں یہ اعلان کرنے کا حکم دیا کہ جنت میں صرف مومن ہی داخل ہو گا ، نیز یہ دن کھانے پینے کے ہیں ۔
(1) ''ایام تشریق ،، ذوالحجہ کی 11،12، 13 تاریخ کو کہتے ہیں ۔ گویا یہ اعلان حجۃ الوداع کے موقع پرکیا گیا ۔
(2) ''صرف مومن ہی ،، جس کا ایمان زبان سے آگے گز کر دل تک پہنچ گیا۔ وہی جنت کامستحق ہے اور گناہ گار مومن کسی نہ کسی وقت جنت میں ضرور جائے گا ،البتہ کافر جنت میں نہیں جاسکے گا ۔
(3) ''کھانے پینے کے دن ہیں ،،لہذا ان دنوں میں روزہ رکھا جائے ۔