فهرس الكتاب

الصفحة 5091 من 5761

کتاب: سنن کبری سے زینت کے متعلق احکام و مسائل

زرد رنگ سے خضاب کرنا

5091 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ قَالَ سَمِعْتُ الرُّكَيْنَ يُحَدِّثُ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ عَشْرَ خِصَالٍ الصُّفْرَةَ يَعْنِي الْخَلُوقَ وَتَغْيِيرَ الشَّيْبِ وَجَرَّ الْإِزَارِ وَالتَّخَتُّمَ بِالذَّهَبِ وَالضَّرْبَ بِالْكِعَابِ وَالتَّبَرُّجَ بِالزِّينَةِ لِغَيْرِ مَحَلِّهَا وَالرُّقَى إِلَّا بِالْمُعَوِّذَاتِ وَتَعْلِيقَ التَّمَائِمِ وَعَزْلَ الْمَاءِ بِغَيْرِ مَحَلِّهِ وَإِفْسَادَ الصَّبِيِّ غَيْرَ مُحَرِّمِهِ

حضرت عبداللہ بن مسعود﷜ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبیﷺ دس کاموں کو ناپسند فرماتے تھے: (مردوں کا) خلوق لگانا،سفید بالوں کو سیاہ کرنا، تہبند (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانا، (مردوں کےلیے) سونے کی انگوٹھی پہننا ، شطرنج کھیلنا، نامناسب مقام پر عورت کا اظہار زینت کرنا، معوذات وغیرہ کے علاوہ دم کرنا، تمیمے لٹکانا، منی غلط مقام پر ضائع کرنا اور چھوٹے بچے میں خرابی ڈالنا ۔ لیکن آپ اس ( آخری کام) کو حرام نہیں فرماتے تھے۔

محقق کتاب کا روایت کی سند کو حسن قرار دینا محل نظر ہے کیونکہ عبدالرحمن بن حرملہ راجح قول کے مطابق ضعیف راوی ہے، اس لیے یہ روایت منکر اور ضعیف ہے، تاہم دیگر دلائل کی رو سے مذکورہ دس کاموں میں سے بعض قطعًا حرام ہیں اور بعض مکروہ۔ تفصیل کےلیےدیکھئے: (تمام المنۃ،ص:75، والموسوعۃ الحدیثیۃ، مسند احمد:6؍92)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت