فهرس الكتاب

الصفحة 5107 من 5761

کتاب: سنن کبری سے زینت کے متعلق احکام و مسائل

رنگ بھروانے والی عورتوں کا بیان اور اس حدیث میں عبداللہ بن مرہ اور شعبی پر اختلاف کا ذکر

5107 أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ الْحَارِثِ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَشَاهِدَهُ وَكَاتِبَهُ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُوتَشِمَةَ قَالَ إِلَّا مِنْ دَاءٍ فَقَالَ نَعَمْ وَالْحَالُّ وَالْمُحَلَّلُ لَهُ وَمَانِعُ الصَّدَقَةِ وَكَانَ يَنْهَى عَنْ النَّوْحِ وَلَمْ يَقُلْ لَعَنَ

حضرت حارث سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے، کھلانے والے، اس پر گواہ بننےوالے، اس کو لکھنے والے، رنگ بھرنے والی، بھروانے والی الا یہ کہ کسی بیماری کی وجہ سے ہوحلالہ کرنے والے، حلالہ کروانے والے، زکاۃ کی ادائیگی سے انکار کرنے والے لوگوں پر لعنت فرمائی ہے۔ اور آپ نوحہ سے منع فرماتے تھے، البتہ اس میں لعنت کا ذکر نہیں۔

1۔'حلالہ' جس عورت کو تیسری طلاق ہوجائے ، وہ ہمیشہ کے لیے طلاق دینے والے خاوند پر حرام ہوجاتی ہے الا یہ کہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے اور وہاں بھی نباہ نہ ہوسکے بلکہ طلاق ہوجائے یا یہ خاوند فوت ہوجائے تو پھر عدت گزرنے کے بعد پہلے خاوند کے لیے حلال ہوسکتی ہے۔ مگر دوسرا خاوند پہلے خاوند کے لیے حلال کرنے کے نقطۂ نظر سے اس سے نکاح کرے تو حرام ہے اور یہ شریعت کی حرام کردہ چیزکو حیلے سے حلال کرنا ہے۔ اور حرام کو حلال کرنے کےلیے حیلہ حرام ہے۔ حلالہ کرنے والا دوسرا خاوند ہے اور کروانے والا پہلا خاوند ہے۔2۔ ' لعنت کا ذکر نہیں' یعنی نوحہ حرام تو ہے مگر اس فعل پر لعنت کا لفظ ذکر نہیں کیا گیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت