فهرس الكتاب

الصفحة 5396 من 5761

کتاب: قضا اور قاضیوں کے آداب و مسائل کا بیان

(راویوں کا ) اس حدیث میں ابو اسحاق پر اختلاف کر ذکر

5396 أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ إِنْ حَمَلْتُهَا لَمْ تَسْتَمْسِكْ وَإِنْ رَبَطْتُهَا خَشِيتُ أَنْ أَقْتُلَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَحُجَّ عَنْ أُمِّكَ

حضرت فضل بن عباس﷠ سے منقول ہے کہ وہ نبیٔ اکرمﷺ کے پیچھے سواری پر سوار تھے کہ ایک آدمی نے آکر کہا: اے اللہ کے رسول! میری والدہ بہت بوڑھی ہیں۔ اگر میں انہیں سواری پر سوار کرتو بھی وہ نہیں بیٹھ سکیں گی اور اگر میں انہیں (پالان پر) باندھ دوں تو مجھے خطرہ ہے کہ وہ مرجائیں گی۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''تو بتا اگر تیری والدہ کے ذمے قرض ہوتا تو کیا تو اسے ادا کرتا؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ''پھر اپنی ماں کی طرف سے حج بھی کر۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت